ابنا: موصولہ رپورٹ کے مطابق طالبان رابطی کار کمیٹی کے کوآرڈی نیٹر مولانا یوسف شاہ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم سے ملاقات امن عمل آگے بڑھانے کے لیے اہم قدم ہوگا۔حکومتی کمیٹی کے ذرائع نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم نے دونوں امن مذاکراتی کمیٹیز کو آج بروز جمعرات ناشتے پر بلالیا ہے اور اس حوالے سے حکومتی کمیٹی کے کوآرڈینٹر عرفان صدیقی نے طالبان رابطہ کار کمیٹی کو آگاہ بھی کردیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان وزیراعظم سے ملاقات میں آئندہ کی مذاکراتی حکمت عملی پر مشاورت کی جائے گی اور اس دوران کمیٹیز کی ازسرنو تشکیل یا توسیع کے آپشن پر بھی غور کیا جائے گا۔ طالبان کمیٹی کے کوآرڈینیٹر مولانا یوسف شاہ نے نامہ نگاروں سے گفت گو میں کہا کہ طالبان رابطہ کار کمیٹی نے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے ملاقات کا بھی مطالبہ کر رکھا ہے تاہم اس حوالے سے ابھی تک کچھ نہیں بتایا گیا۔ دوسری جانب طالبان کے ساتھ مذاکرات میں پاکستانی فوج کو شامل کرنے پر اس ملک کی اپوزیشن جماعتوں نے تحفظات کاا ظہار کیا ہے۔ قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل میں فوج کو شامل کرنا ستم ظریفی ہوگی، اگر بہت ضروری ہو تو کسی ریٹائرڈ فوجی افسر کو مذاکراتی کمیٹی میں شامل کیا جائے کیونکہ اگر مذاکرات ناکام ہوگئے تو فوج کو شامل کرنے کے نتائج انتہائی خطرناک ہوں گے۔پارلیمنٹ کے باہر بات چیت میں پاکستان کے وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ کا کہنا تھا کہ فوج کو مذاکراتی عمل میں اس لیے شامل کیا ہے کہ اگر آپریشن کی ضرورت پڑ ے تو اسے تمام حالات سے آگاہی ہو ۔ادھر پمز ہسپتال اسلام آباد میں کچہری حملے کے زخمی افراد کی عیادت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں پاکستان مسلم لیگ ق کے صدر چودھری شجاعت نے کہا کہ حکومتی مذاکراتی ٹیم میں فوج کی شمولیت کا خیال اچھا نہیں، مذاکرات یا آپریشن ، حکومت کوئی فیصلہ نہیں کرپارہی۔د یگر سیاست دانوں نے بھی مذاکرات میں فوج کو شامل کرنے پر مختلف رد عمل کا اظہار کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
5 مارچ 2014 - 20:30
News ID: 511577
پاکستان کے وزیراعظم نوازشریف نے حکومتی اور طالبان کمیٹیز کو ملاقات کے لیے آج ناشتے پر بلا لیا ہے۔